Subscribe to out newsletter today to receive latest news administrate cost effective for tactical data.

Let’s Stay In Touch

Shopping cart

Subtotal  0

View cartCheckout

Ilaj-bil-Ghiza

جب میں بیمار پڑتا ہوں تو میری شفاء پر بجز اس اللہ کے اور کوئی قادر نہیں”

۔ دوا میں تاثیر پیدا کرنا بھی اسی کے بس کی چیز ہے۔

الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ [78] وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ [79] وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ [80] وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ [81] وَالَّذِي أَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ [82]

وہ جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔ [78] اور وہی جو مجھے کھلاتا ہے اور مجھے پلاتا ہے۔ [79] اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ [80] اور وہ جو مجھے موت دے گا، پھر مجھے زندہ کرے گا۔ [81] اور وہ جس سے میں طمع رکھتا ہوں کہ وہ جزا کے دن مجھے میری خطا بخش دے گا۔ [82]

تشخیص بطریق قانون مفرد أعضاء

تشخیص طب میں سب سے زیادہ تشخیص کا انحصار مزاج پر ہے یہ اس لئے کہ تمام اعضائے بدن کی ساختوں کا اپنا اپنا ایک مزاج ہے اور وہ تمام ساختیں اپنا اپنا حصہ خون سے الگ الگ وصول کرتی ہیں اور خون تین اخلاط کا مرکب ہے اس میں جس خلط کی زیادتی ہو گی اسی کے اثرات اس کی ساخت حتیٰ کہ عضو رئیس تک نمایاں ہوں گے یہ اخلاط چونکہ تین ہیں اس لئے تین ہی طرح کے مزاج ہوں گے ۔

۔بلغمی –

۔سوداوی –

۔صفراوی-


1۔ بلغمی مزاج:۔

  تمام اشیاء جن کے اندر بالکیفیت بالہئیت اور بالتاثیر رطوبت ومائیت زیادہ ہو گی انہیں بلغمی اور قانون مفرد اعضاء کی اصطلاح میں اعصابی کہا جاتا ہے کیونکہ ایسی چیزوں میں زاتی طور پر رطوبت زیادہ ہوتی ہے اور یہی خون میں تاثیر زیادہ پیدا کرتی ہیں جہاں کہیں بلغمی یا اعصابی کا لفظ آئے تو وہاں بلغمی رطوبات مراد ہیں جسم میں ان کی پیدائش کا مرکز دماغ و اعصاب ہیں جب دماغ و اعصاب کا فعل تیز ہوتا ہے تو بلغم اور رطوبت زیادہ بنتی ہے اور جب بدن کو رطوبت زیادہ ملتی ہے تو دماغ و اعصاب کا فعل تیز ہو جاتا ہے
2۔ سوداوی مزاج:۔  

وہ تمام اشیاء جو بالکیفیت بالہئیت بالتاثیر خشک ہوں انہیں سوداوی یا عضلاتی کہتے ہیں کیونکہ ایسی تمام چیزیں زاتی طور پر خشک کیفیات رکھتی ہیں اور جسم میں یہی اثرات بڑھاتی ہیں جہاں کہیں سوداوی یا عضلاتی کا لفظ آئے تو وہاں پر سردی خشکی مراد ہے جسم میں ان کی پیدائش کا مرکز قلب و عضلات ہیں جب ان کا فعل تیز ہوتا ہے تو خشکی اور سردی کا غلبہ ہو جاتا ہے یا جب جسم کو زیادہ خشک سرد اشیاء دی جائیں تو قلب و عضلات کا فعل تیز ہوجاتا ہے

3۔ صفراوی مزاج :۔

وہ تمام اشیاء جو بالکیفیت بالہئیت یا بالتاثیر گرم ہوں انہیں صفراوی قانون مفرد اعضاء کی اصطلاح میں غدی کہا جاتا ہے ایسی چیزیں گرم کیفیات کی حامل ہوتی ہیں اور یہی اثرات خون میں پیدا کرتی ہیں جہاں کہیں صفراوی یا غدی کا لفظ آئے تو وہاں جگر میں پیدا ہونے والی رطوبت صفراء مراد ہیں یہی جگر ہی اس کی پیدائش کا مرکز ہے جب جگر کا فعل تیز ہوتا ہے تو صفراء زیادہ بنتا ہے اور جب جسم کو صفراء زیادہ مقدار میں پیدا کرنے والی اشیاء دیتے ہیں تو جگر وغدد کا فعل لازمی تیز ہوتا ہے اب ان تینوں کی الگ الگ پہچان یہ ہے
1۔ بلغمی مزاج کی پہچان اور اس کی علامات :۔

عموماً سفید رنگ والے بلفمی مزاج ہوتے ہیں-
جسم کے تمام اعضاء ڈھیلے نرم اور سرد ہوتے ہیں-

تھوک کثرت سے آتا ہے-
پیاس کم لگتی ہے-
نیند زیادہ آتی ہے اور پانی والے خواب آتے ہیں-
جسم چربی والہ فربہ ہوتا ہے-
جسم سست اور کاہلی والا ہوتا ہے-
طبعی عمر سے پہلے بال سفید ہو جاتے ہیں-
جسم ڈرپوک اور خوف زیادہ محسوس ہوتا ہے-
مردوں کو جنسی ہیجان نہی رہتا-
عورتوں کو حیض نہی آتا-
عورتوں کو سیلان ہو جاتا ہے-
مردوں کو جریان ہو جاتا ہے-
ناک سے سفید مواد آتا ہے-
پانی جیسے اسہال آتے ہیں-
سردی زیادہ لگتی ہے اور اعضاء ٹھٹھر جاتے ہیں-

فشار الدم ضعیف رہتا ہے-
منہ کھلا رہتا ہے-
گفتگو بڑے آرام سے ڈھیلی ڈھیلی کرتے ہیں-
غصہ دلانے سے بھی جلدی غصہ نہی آتا-
بھوک کم لگنا اور کھاری ڈکاریں آنا-
بلغمی کھانسی یا دمہ کا ہو جانا-
زیابیطیس حقیقی کا ہو جانا-
سلسل البول کا عارضہ ہو جاتا ہے-
البول فی الفراش بستر میں پیشاب ہونا-
عورتوں کو دودھ زیادہ آنا-
فضلات کا اخراج زیادہ ہونا اور ان کی رنگت سفید ہونا-
جسم پر نیلے دھبے ہونا-
منہ سے رال بہنا-
صبح اٹھنے کو دل نا چاہنا-

 

3۔ صفراوی مزاج کی پہچان اور اس کی علامات  :۔

عموماً گندمی اور سیاہی مائل رنگت والے سوداوی مزاج ہوتے ہیں-
چہرے پر سیاہیاں کیل مہاسے اور سیاہ داغ نظر آتے ہیں-
آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے ہوتے ہیں-
جلد پر سرخ دھبے دکھائی دیتے ہیں-
جلد پر خارش خشک اور جلدی نا پکنے والے دانے پھنسیاں پھوڑے ہوتے ہیں-
سارا جسم دبلا اور پیٹ مشک کی طرح باہر بڑھا ہوا ہوتا ہے-
سر پر بال کثرت سے ہونا لیکن آہستہ آہستہ درمیان سے گنج ہو جانا-
اکثر سوچ وبچار کرتے رہنا نیند کی کمی اور ڈراؤنے خواب جن میں سیاہ چیزیں دکھائی دینا-
قبض شدید رہنا قضائے حاجت کے وقت کافی دیر لگانا یہ بواسیر ہونے کی علامت ہے یا پھر صفائی نہ ہونے کی کا وہم لاحق ہو چکا ہوتا ہے-
انتشار کی زیادتی اور مادہ منویہ کم ہونا-
ترش ڈکاریں آنا-
معدے میں جلن ہونا-
مقعد میں درد جلن اور خون آنا-
ظاہر جلد پر موہکے مسے اور تل کے نشان ہونا-
پیٹ سے ہوا باآواز خارج ہونا-
ظاہر جلد پر چنبل دھدر فنگس خارش اور کنگرین کے نشان ہونا-
احتلام کی کثرت ہونا-
کولیسٹرول بڑھنے کا رجہان ہونا اور سانس پھولنا-
یورک ایسڈ بڑھنے کا رجہان اور جوڑوں میں سوجن اور شدید درد ہونا-
گنٹھیا-
تپ دق-
ضیق النفس یابس-
مالیخولیا-
جنون-
نمونیہ-
منہ سے خون آنا-
لقوہ یا رعشہ ہونا-
پڑبال-
سبل-
بواسیر الانف یا بواسیر الشفت-
دبیلہ-
جوع الکلب-
ہیپاٹائٹس بی وسی-
کینسر-

3۔ صفراوی مزاج کی پہچان اور اس کی علامات :۔

عموماً پھیکے زرد چہرے صفراوی مزاج ہوتے ہیں-
منہ کا زائقہ چرپرایا نمکین رہنا-
پیاس زیادہ لگنا-
جسم میں چبھن گھبراہٹ اور چنگاریاں محسوس ہونا-
رقت وسرعت کی شکایت ہونا-
بات چیت صاف اور تیز تیز کرنا-
غصہ جلدی آنا-
غصہ جلدی آنا-
عورتوں کو حیض تکلیف سے آنا-
عورتوں کو سیلان پیلے رنگ کا آنا اور جلن ہونا-
خفقان قلب کا عارضہ ہونا-
طبعیت کا بوجھل رہنا-
جلد پر چھپاکی ظاہر ہونا-
نزلہ حار کی شکائت ہونا-
دائمی پیچش ہونا-
صداع حار یا درد شقیقہ ہونا-
تپ محرکہ معویہ ہونا-
زکاوت حس ہو جانا-
ضیق النفس کلوی ہونا-
آماس-
ہاتھ پاؤں اور پیشاب میں جلن-
آشوب چشم-
نیند کی بے چینی غنودگی اور خواب میں آگ دیکھنا-
اجابت بے قائدہ رہنا-
فشارالدم قوی رہنا-
پٹھوں کی کمزوری ہونا-

تحریک
جب کسی عضو میں غذا دوا یا زہر کے استعمال سے تحریک پیدا ہوتی ہے تو وہاں پر سکیڑ پیدا ہو جاتا ہے وہاں کی رطوبات کم ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور وہاں پر آہستہ آہستہ گرمی بڑھنا شروع ہوجاتی ہے یہی تحریک جب شدت اختیار کرلیتی ہے تو اس عضو میں سوزش ہو جاتی ہے لیکن تحریک سے سوزش تک اس عضو کو ان علامات سے گزرنا پڑتا ہے

1 ۔ لذت
جب متحرک عضو کے مقام پر دوران خون بڑھتا ہے تو ابتدائی صورت میں لذت پیدا ہوتی ہے جیسے گدگدی کرنے سے لذت پیدا ہوتی ہے یہ لذت اور لطف کی اصل حقیقت ہے

2 ۔ بے چینی
جب لذت میں شہوت پیدا ہوجائے تو وہاں پر لطف کی بجائے بے چینی بڑھ جاتی ہے

3 ۔ حبس
س حالت کو کہتے ہیں جہاں رطوبات کی پیدائش بند ہو حائے اور خشکی بڑھنا شروع ہو جائے

4 ۔ قبض
قبض اس حالت کو کہتے ہیں جہاں پر رطوبات کا اخراج رک جائے

5 ۔ خارش
جب بے چینی کے بعد حبس وقبض پیدا ہوجائے تو وہاں خارش شروع ہو جاتی ہے

6 ۔جوش خون
خارش میں جب شدت پیدا ہوجائے تو وہاں پر جوش خون پیدا ہوتا ہے تو اس کے دباؤ سے عضو کی وسعت میں درد پیدا ہوجاتا ہے
7 ۔سوزش
جب یہ تمام علامات وارد ہو جائیں تب سوزش ہوتی ہے سوزش کے معنی جلن کے ہیں کیونکہ سوزش کی حالت میں اس مقام پر خون شدت سے آنا شروع ہو جاتا ہے اور جلن ہونے لگتی ہے اور کیفیاتی نفسیاتی اور مادی تحریکات سے جسم کے کسی بھی مفرد عضو میں پیدا ہو جاتی ہے ہر قسم کی سوزش میں جلن حرارت سرخی رطوبات کا ترشح اور تغیر افعال لازمی پائے جاتے ہیں جب کس زندہ ساخت پر کوئی مہیج(خراش کنندہ) اثر انداز ہو تو اس کے خلاف جسم کی ایک منظم مدافعانہ تدبیر کے نتیجے میں جو علامت ظاہر ہوتی ہے اس کو سوزش کہا جاتا ہے قوت مدبرہ کی یہ تدبیر اس لئے ہوتی ہے کہ اس مہیج کے مضر اثرات کو مقامی طور پر ہی ختم کیا جائے اور اسے پورے بدن میں پھیلنے سے روکا جائے سوزش کی شدت اس مہیج کی قوت مضرت کے مطابق ہوتی ہے کوئی زہریلا سوزشی مادہ جتنا زیادہ تیز اثر ہو گا اتنی ہی شدید سوزش ظاہر ہوتی ہے سوزش کے نتیجے میں درجہ بدرجہ پانچ علامات پائی جاتی ہیں

سوزش کا نتیجہ
1 ۔ جلن
جلن تکلیف کے اس احساس کا نام ہے جو سوزش مادہ کے اثر سے کسی عضو میں پیدا ہوتا ہے
2 ۔ حرارت
جب کسی مقامات پر سوزشی مادہ اثر انداز ہوتا ہے تو اس کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے خون تیزی سے وہاں جمع ہوتا جاتا ہے خون کی تیزی اور اجتماع سے عضو میں گرمی پیدا ہوتی ہے اور وہ چھونے سے گرم محسوس ہوتا ہے

3 ۔ سرخی
مقام سوزش پر چونکہ خون جمع ہوتا ہے جو سرخ رنگ کا ہے اس لئے اس مقام کا سرخ ہو جانا لازمی امر ہے
4 ۔ رطوبات کا ترشح
جب کس جسم یا مجرٰی میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے تو اس کو رفع کرنے کے لئے ردعمل کے طور پر وہاں پر ترشح رطوبات ہوتا ہے سوزش سے حفاظت کے لئے یہ بھی قوت مدبرہ البدن کی ایک تدبیر ہے ہر عضو کی سوزش میں جو رطوبات اخراج پاتی ہیں ان کی کیمیاوی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں اعصاب کی سوزش میں جو رطوبات اخراج پاتی ہے اس میں ہر غدد کا اپنا کیمیاوی تغیر شامل ہوتا ہے اسی طرح جو سوزش کسی عضو میں ہوتی ہے اس کی رطوبات میں لحمی اجزاء اور تیزابی مادے زیادہ ہوتے ہیں

 5۔ تغیر افعال
اس کی بھی تین صورتیں ہیں

1 ۔ تحریک
جب جسم کے کسی عضو میں سوزش پیدا ہوتی ہے تو اس کے عضوی وکیمیائی افعال میں تغیر پیدا ہوجاتا ہے وہ تغیر اس طرح ہوتا ہے کہ مقام سوزش پر پہلے انقباض اور خشکی پیدا ہوتی ہے حرارت کی کمی اور برودت کی زیادتی ہو جاتی ہے اس طرح آکسیجن کی کمی اور کاربن کی زیادتی ہو جاتی ہے رطوبات کی کمی بلکہ بندش ہو جاتی ہے جس سے تناؤ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اس کو تحریک کہا جاتا ہے

2 ۔ تسکین
جب کسی عضو میں سوزش پیدا ہوتی ہے تو اس میں بندش رطوبت جاتی ہے لیکن اس سوزش کو رفع کرنے کے لئے ردعمل کے طور پر خون سے رطوبات کا ترشح زیادہ ہو جاتا ہے جس کو تحریک والا عضو اپنی انقباض کی وجہ سے قبول نہی کرتا تو وہ دوران خون کے مطابق اس سے بعد والے عضو میں جمع ہو جاتی ہیں وہاں پر حالت تسکین پیدا ہوجاتی ہے عضو میں اس رطوبت کے اجتماع سے کیمیاوی تبدیلی واقع ہوجاتی ہے اور وہ عضو فعلاً سست ہوجاتا ہے یہی تسکین بڑھ کر تخدیر بن جاتی ہے کثرت رطوبات سے وہ عضو پھول جاتا ہے

 3 ۔ تحلیل
جب کسی عضو میں تحریک پیدا ہو جاتی ہے تو وہاں پر سردی کی کثرت ہو جاتی ہے اور عضو سکڑ جاتا ہے اور اس میں خون کا اجتماع ہوجاتا ہے اس کے نتیجے میں وہ عضو جہاں سے خون تیزی سے گذر کر متاثرہ عضو میں جمع ہو رہا ہوتا ہے گرم ہو جاتا ہے اور خون کے طبعی بہاؤ کے مطابق اپنی گرم رطوبت اسی خون کے زریعے اس عضو میں بھیجتا رہتا ہے تاکہ متاثرہ مقام کی سردی کو گرمی پہنچا کر ختم کیا جا سکے اور وہاں پر موجود انقباض اور سکیڑ کو حرارت سے پھیلایا جاسکے اور دوران خون چلایا جاسکے لہٰذا اس سے پہلے والے عضو میں تحلیل ہو جاتی ہے

قانون مفرد اعضا کا فارمولا

 

کلیہ نمبر 3

کلیہ نمبر 2

کلیہ نمبر 1

تحریک

4

2 – 3

2

1۔ اعصابی عضلاتی

5

3 – 4

3

2۔ عضلاتی اعصابی

6

4 ۔ 5

4

3۔ عضلاتی غدی

1

6 – 5

5

4۔ غدی عضلاتی

2

1 – 6

6

5۔ غدی اعصابی

3

1 -2

1

6۔ اعصابی غدی

دماغ:۔  اعصاب، بلغم ، تری۔

دل :۔ عضلات، ریح، خشکی، سودا۔

جگر:۔ غدی، غدود، گرمی، صفرا۔

قانون اربعہ طب مفرد اعضا

 

کلیہ نمبر 3

کلیہ نمبر 2

کلیہ نمبر 1

تحریک

3 – 4

2 – 3

2

1 ۔ عضلاتی ، مخاطی،

4

4 – 5

3

2 ۔ عضلاتی ،قشری

5 – 6

4 – 5

4

3۔ قشری ، عضلاتی

5 – 6

6 – 7

5

4 ۔ قشری،  اعصابی

4

6 – 7

6

5 ۔ اعصابی، قشری

4

1 – 8

7

6 ۔ اعصابی،  مخاطی ،

4

1 – 8

8

7 ۔ مخاطی ، اعصابی

4

2- 3

1

8 ۔ مخاطی ،عضلاتی 

 جگر:۔ تحریک:۔  قشری، گرمی،  صفرا، غدد، ناقلہ۔

دل :۔ تحلیل:۔عضلاتی، خشکی، ریح، عضلات، سودا۔

تلی :۔ تسکین :۔ سردی، مخاطی، طحال، جاذبہ ۔

 دماغ :۔ تخدیر:۔  تری ، اعصابی ، اعصاب، بلغم۔

انسانی زندگی اور مزاج

انسان کے متعلق قدیم یونانی طب یہ خیال رکھتی ہے کہ انسان چار چیزوں کے امتزاج سے وجود میں آیا ہے۔

خون ، سودا ، صفرا ، بلغم ، جس طرح خون اور بلغم انسانی جسم میں پائے جانے والے مادے ہیں ، اسی طرح صفرا اور سودا بھی انسانی جسم میں پائے جانے والے مادے ہیں ۔

یہ پیلے رنگ کا مادہ ہوتا ہے، یہ پتے میں جمع ہوتا ہےجس کو صفرا کہتے ہیں ۔ ، اسی طرح سودا یہ سیاہ رنگ کا ایک مادہ ہےجو معدہ میں پایا جاتا ہےیہ جسم میں غذا ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے، سودے کی مناسب مقدار ہاضمہ ہڈیوں اور دانتوں کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے ، ان چاروں اجزا کو انسانی جسم میں بنیادی حیثیت حاصل ہے ان ہی چار چیزوں سے انسانی مزاج وجود میں آتا ہے ۔ خون کا مزاج گرم تر ہے سودا کا مزاج سرد خشک ہے ۔ صفرا کا مزاج گرم خشک ہے ۔ بلغم کا مزاج سرد تر ہے۔ 

 

انہی کو مد نظر رکھتے ہوئے قدیم یونانی طب میں انسانی مزاج کو رکھا گیا ہے ۔ اگر کسی کے جسم میں خون کی کثرت اور غلبہ ہو گا تو اس کا مزاج گر م تر ہو گا ، جسے طب کی زبان میں دموی مزاج بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کے برعکس اگر سودا کا غلبہ ہو گا تو ہم اس کو سودا وی مزاج لکھیں گے ، یعنی دوسرے لفظوں میں سرد خشک مزاج ہو گا۔ اگر صفرا کا غلبہ زیادہ ہو گا تو صفراوی مزاج ہو گا  یعنی گرم خشک ۔اگر بلغم کی کثرت اور غلبہ بہت زیادہ ہو تو مزاج بلغمی یعنی سرد تر ہو گا ۔  

درحقیقت انسانی جسم میں ان مادوں کا توازن ہو نا بہت ضروری ہے ۔جب ان مادوں کا توازن بگڑنا شروع ہو جاتا ہے تو انسانی جسم مختلف بیماریوں اور مسائل کا شکار ہو جاتاہے ۔

اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک عام آدمی کو یہ کس طرح معلوم ہو گا کہ اس کا مزاج کونسا ہے میں آپ کو مزاج معلوم کرنے کا طریقہ بتاتا ہوں اپنے جسم کے مزاج کو معلوم کرنے کے بہت سے طریقے ہیں لیکن یہاں میں نہایت آسان طریقہ بتاتا ہوں ۔ ان میں پہلا طریقہ علامات کے ذریعہ اپنا مزاج جاننا اور دوسرا ہے خوراک کے ذریعہ ۔

علامات کے طریقہ کو میں ذرا وضاحت کے ساتھ بیان کر رہا ہوں :۔

 1۔ دموی مزاج یعنی گرم تر مزاج کے انسان میں مندرجہ ذیل علامات واضع طور پر پائی جاتی ہیں ۔ مسوڑوں سے خون آنا ، ناک سے اکثر خون جاری ہونا ، جلد اور زبان کا سرخ ہونا ، نیند اور غنودگی کی زیادتی۔

 

2۔ سرد خشک مزاج ، سوداوی مزاج:۔

اس شخص میں مندرجہ ذیل علامات پائی جاتی ہیں ، جلد کی رنگ سیاہ ، جسم کمزور اور لاغر ، نیند کی کمی ، منہ ناک اور جسم میں خشکی ، تنہائی پسندی اور خوف ، نبض ڈوبی ہوئی اور آہستہ۔

 

3۔ صفراوی مزاج گرم خشک مزاج:۔ 

ان اشخاص میں مندرجہ ذیل علامات واضع طور پر پائی جاتی ہیں ، آنکھوں اور جلد کی رنگت زرد ، پیاس کی زیادتی ، آنکھوں میں جلن ، پیشاب کی رنگت زرد اور سرخی مائل ، پیشاب میں جلن ، منہ کا ذائقہ کڑوا ، اور نبض تیز ۔

 

4۔ بلغمی مزاج سرد تر مزاج:۔ 

جلد کی رنگت سفید ، منہ کاذائقہ پھیکا جسم میں سستی تھوک لیس دار ، کھٹے ڈکاروں کا زیادہ آنا، جوڑوں کا درد ، نزلہ زکام زیادہ ہونا ۔

اب میں نے مزاج کے بارے میں لکھ دیا ہے یہاں یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ پھر ہمیں اپنے مزاج کے مطابق کس طرح اپنی خوراک کو ترتیب دینا ہے ، یہ بہت اہم اور قابل غور پہلو ہے جس کو ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں او رپھر مختلف بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں اگر آپ کا مزاج گرم خشک ہے تو آپ کو گرم مزاج غذائیں مفید نہیں ہونگی ۔ مثلاً بڑا گوشت۔ 

اگر آپ کا مزاج سرد تر یعنی بلغمی ہے تو آپ کو سرد مزاج رکھنے والی غذائیں مفید نہیں ہونگیں۔ مثلاً دود ھ اور دودھ سے بنی ہوئی تمام غذائیں ۔ تمام غذاؤں کا اپنا ایک مزاج ہو تا ہے اور آپ نے خود یہ انتخاب کرنا ہے کہ کونسی غذائیں آپ کیلئے مفید ہیں اور کونسی نقصان دہ ۔

1 ۔ عضلاتی ، مخاطی،  خشک سرد،عضلاتی اعصابی

2 ۔ عضلاتی ،قشری،  خشک گرم، عضلاتی غدی

3۔ قشری ، عضلاتی،  گرم خشک، غدی عضلاتی

4 ۔ قشری،  اعصابی،  گرم تر، غدی اعصابی

5 ۔ اعصابی، قشری،   تر گرم، اعصابی غدی

6 ۔ اعصابی،  مخاطی ، تر سرد، اعصابی عضلاتی

7 ۔ مخاطی ، اعصابی ،  سرد تر،اعصابی

8 ۔ مخاطی ،عضلاتی  ،  سرد خشک، اعصابی عضلاتی

عضلاتی مخاطی، خشک سرد،عضلاتی اعصابی

محرک عضلات کیمیاوی تحریک بلڈ گروپ بی پوزیٹو+

سبزیاں :۔ لوبیا، ارہر، موٹھ کی پھلییاں، بینگن، کچنار سیاہ چنے کالے چنوں کی یخنی، ہرا چھولیا،  مٹر(سالن بناتے وقت ترش چیزیں اندر ڈالیں):۔

سلاد:۔ ہرا چھولیا، اہرر، ابلے ہوئے کالے چنے لیموں نچوڑ کر کھائیں  :۔

چٹنی:۔ انار دانہ  کی چٹنی، کچے آموں چٹنی، املی آلوبخارے کی چٹنی، امچور: ۔

اچار:۔ لیموں کا اچار(اچار ہر قسم کا) لسوڑے کا اچار:۔

مصالحہ جات:۔

 اناج:۔ باجرہ، باجرے کی روٹی، سفید لوبیا اور کالے چنے ، ان کی یخنی، باجرا:۔

پھل:۔ جامن ، فالسہ ،  لوکاٹ ،آلوچہ ، سنگترہ ، آڑو ترش ، خشک بیر، کچا ناریل ،ترش انگور، آلوچہ ، انناس ، آلوبخارا ترش، املی، رس بھر ی، ترش انار سرخ،  جاپانی پھل کچا ترش، کچا کینو ترش،  چکوترہ، کچا تخمی آم:۔

 گوشت:۔ بھینس کا گوشت، بڑا گوشت:۔

مغزیات ، میواجات:۔ مونگ پھلی ناریل کچا،  سفید لوبیا اور کالے چنے ، ان کی یخنی، باجرا:۔ مقویات:۔ آلو چھولے، دہی بھلے:۔

مشروبات، عرقیات:۔  ترش پھلوں کے جوس ، لیمن جوس،  سکنج بین، ترش لسی، لیموں کا قہوہ، شربت انجبار:۔

مربہ جات :۔ مربہ آملہ ، مربہ ہرڑ، مربہ بہی:۔

دیگر اشیا:۔   ا

قہوہ:۔ کالی پتی  سادہ + لیمن نچوڑ کر،  امچور، بادیان خطائی، دار چینی ، الائچی سفید کا قہوہ، چھلکا انار ترش، انجبار، داڑھی بوڑھ،   جامن کی گٹھلی ، چائے خشخاش، گلو، چھلکا پستہ:۔

رنگ:۔ ڈارک مہرون کلر کا لباس، بستر، کمرہ سجا ہوا، سرمئی رنگ کے وال پیپر اول سرخ رنگ کا بلب، کالے رنگ کے برتن میں پانی ڈال کر سرخ رنگ کی شعاعیں گزار کر یہ پانی پلائیں۔ بچوں کے لیے ڈارک مہرون کلر کے کھلونوں کا اہتمام ، انگوٹھی  یا گلے میں مہرون  رنگ کا نگ:۔

خوشبو:۔

نوٹ :۔ کھانا بھوک لگنے پر کھائیں ۔ کولیسٹرول  اور بلڈ پریشر  زیاہ ہو تو چکنائی سے پرہیز، شوگر ، فیٹی لیور   اور ٹرائگلیسرائڈز  کے مریض میٹھے سے پرہیز کریں ، گردوں کے مریض ہر قسم کے گوشت سے پرہیز کریں ۔جگر کے مریض صرف مائع اور زود ہضم چیزیں استعمال کریں، چکنائی ، گھی، گوشت سے پرہیز کریں۔ شکر یہ:

عضلاتی قشری، خشک گرم، عضلاتی غدی

محرک عضلات مشینی تحریک بلڈ گروپ بی نگیٹو:۔

سبزیاں :۔ کریلے ، پالک، میتھی، ٹماٹر، سرخ مرچ، لہسن،  کریلے قیمہ،  گوبھی گوشت ، میتھی سرکہ ڈال کر، سرخ مرچ، دال چنا، دلیم، کڑی بیسن لسی سے تیار کردہ،   ثابت مسور شوربہ والے ، ٹماٹر بغیر چھلکا بیسن لگا کر تلی ہوئی مچھلی۔ ہالوں ساگ:۔

سلاد:۔ سلادٹماٹر، چنے ابلے ہوئے، مرچ سرخ:۔

چٹنی:۔ ٹماٹر کی چٹنی،  سرخ مرچ:۔

اچار:۔  آم ، سوہانجنہ

مصالحہ جات:۔گرم مصالحہ ، سرخ مرچ :۔

 اناج:۔ ثابت چنے،  مسور اور چنے کی دال، بیسن کی کڑی، بیسن کی روٹی،  دال چنا، دلیم،  بھنے ہوئے چنے، السی کے لڈو :۔

پھل:۔ جاپانی پھل درمیانی پکا ہوا، ناریل خشک، منقٰی ، کشمش، خوبانی خشک، مویز (منقٰی ) آڑو پستہ وغیرہ :۔

گوشت:۔ مچھلی کے پکوڑے، تیل میں تلے ہوئے تکے کباب شامی، گائے کا گوشت، چھوٹا گوشت، مچھلی، اوجھری،  گوشت کی یخنی،  بڑے گوشت کی یخنی،بڑے کے سری پائے، گوشت بھینس، خرگوش کاگوشت، بڑے گوشت کے کباب، دیسی مرغی کی یخنی:۔

مغزیات ، میواجات:۔ ناریل خشک، منقٰی ، کشمش، چھوہارے، مغز اخروٹ،   بھونے ہوئے چنے:۔

 مقویات:۔ دیسی انڈوں اور بیسن کا حلوہ، دیسی انڈے فرائی یا ابلے ہوئے، اخروٹ بھنے ہوئے  چنے ملا کر، چھوہاروں میں پستہ بھر کر دیسی گھی میں بریاں کر کے، السی کے لڈو، چھوہارے پستہ بھر کر روغن زیتون میں بریاں کر  کے، بیسن کا حلوہ ، ابلے ہوئے انڈوں کی زرد یاں،  روغن لونگ، روغن دار چینی:۔

مشروبات، عرقیات:۔  تیز چائے، کلونجی ۔ شربت دار چینی،

مربہ جات :۔

دیگر اشیا:۔

قہوہ:۔ لونگ دار چینی کا قہوہ، قہوہ لیمن گراس، ارجن کی کھال کا قہوہ، ارجن کی کھیر، قہوہ جلوتری:۔

رنگ:۔ سرخ شوخ رنگ کے وال پیپر، پیلا بلب ، اورنج یا پیلے رنگ کے برتن میں پانی ڈال کر شوخ رنگ کی شعائیں گزار کر پلائیں، سردی میں کوئلوں کی آگ سینکنا اور دیکھنا، شوخ سرخ رنگ کا نگ انگوٹھی یا گلے میں ڈالنا، سرخ کھیلو نے بچوں کے لئے :۔

خوشبو:۔ چنبیلی کے پھول کی، چنبیلی کی خوشبو، لونگ  کی خوشبو، دارچینی کی خوشبو،

نوٹ :۔ کھانا بھوک لگنے پر کھائیں ۔ کولیسٹرول  اور بلڈ پریشر  زیاہ ہو تو چکنائی سے پرہیز، شوگر ، فیٹی لیور   اور ٹرائگلیسرائڈز  کے مریض میٹھے سے پرہیز کریں ، گردوں کے مریض ہر قسم کے گوشت سے پرہیز کریں ۔ جگر کے مریض صرف مائع اور زود ہضم چیزیں استعمال کریں، چکنائی ، گھی، گوشت سے پرہیز کریں۔ شکر یہ:

قشری عضلاتی، گرم خشک، غدی عضلاتی

محلل عضلات کیمیائی بلڈ گروپ او  پوزیٹو

سبزیاں :۔ سرسوں کا ساگ ،  ہالوں کا ساگ ، میتھی ، مسور ثابت ، باتھو ، پالک ، چونگاں ، بینگن ، دال مسور، سوہانجنہ، ادرک ، لہسن،    پیاز، کلیجی وپھیپڑا، مسر فرائی، دیسی مرغی فرائی، کریلے کڑی پکوڑے، شملامرچ، کیمیکل زدہ  ٹینڈے:۔

سلاد:۔ سلادپیاز، شملا مرچ، ادرک، لہسن، ٹماٹر:۔

چٹنی:۔ شہد سلائس، ادرک ،لہسن ، آم، ٹماٹر:۔

اچار:۔ سوہانجنہ،

مصالحہ جات:۔ ، کالی جیری، کالی زیری

 اناج:۔ دال مسور ، تل، بیسن کا سالن، ثابت مسر فرائی:۔

پھل:۔ آم ، دیسی خوبانی، کھجور تازہ شیریں ، انگور شیریں، خوبانی خشک ، منقٰی، کھجور، ڈوکا:۔

 گوشت:۔ بکرے کا گوشت ، دیسی مرغی کا گوشت ، تیتر، بٹیر ، تلئیر کا گوشت ، کلیجی، شوربہ والی مچھلی ، جھینگا،تکے کباب،  کلیجی و پھیپھڑا، دیسی مرغی فرائی، برائلر مرغی کا گوشت، جنگلی کبوتر،  بھیڑ، ہرن، فارمی بڑا گوشت  وکباب:۔

مغزیات ، میواجات:۔ کھجور، سوگی، بادام،  بادام کڑوا، کلونجی، ناریل خشک، چھوہارے خشک، خشک پان، میتھی دانہ ، خوبانی خشک، ناگرہ موتھ، تل:۔

 مقویات:۔ دیسی گھی ، ڈالڈا گھی، بیسن کا حلوہ ، دیسی گھی بازاری،  انڈوں کا آملیٹ، انڈوں کا حلوہ، انڈے فرائی، انڈے والی توش، حلیم میں لہسن ادرک ڈال کر، گندم یا بیسن ملی ہوئی روٹی دیسی گھی سے چوپڑ کر :۔

مشروبات، عرقیات:۔  تیز پتی کی چائے ، پشاوری قہوہ ، لیمن قہوہ ، گراس کا قہوہ ،  نسوار، پان ، بیڑی، چائے، عرق اجوائن۔

مربہ جات :۔  ادرک:۔

دیگر اشیا:۔ نان حلیم، کلچے، بیسن، وڑیاں، پکوڑے ، تلوں والے نان، پکوڑے میتھی ، تلوں والے نان، شہد خالص:۔

قہوہ:۔ قہوہ اجوائن دیسی ، قہوہ تیز پات ، قہوہ کلونجی، اجوائن اور ادرک کا قہوہ ، پودینہ کا قہوہ ، شہد سے میٹھا کر سکتے ہیں  سگریٹ، کافی،  تیز پات + کلونجی، قہوہ لیمن بیج، قہوہ کالی زیری:۔

رنگ:۔نارنجی کلر کی روشنی خصوصاً  سورج نکلتے وقت کی روشنی جسم پر ڈالیں ۔ اسی کلر کا لباس، کمرہ ، انگوٹھی  کا نگ یا گلے کا نگ، یہی روشنی پیلے رنگ کے برتن میں ڈالے گئے پانی میں سے گزار کر پلائیں، سورج کی شعاعیں جسم پر ڈالیں۔

نوٹ :۔ کھانا بھوک لگنے پر کھائیں ۔ کولیسٹرول  اور بلڈ پریشر  زیاہ ہو تو چکنائی سے پرہیز، شوگر ، فیٹی لیور   اور ٹرائگلیسرائڈز  کے مریض میٹھے سے پرہیز کریں ، گردوں کے مریض ہر قسم کے گوشت سے پرہیز کریں ۔ جگر کے مریض صرف مائع اور زود ہضم چیزیں استعمال کریں، چکنائی ، گھی، گوشت سے پرہیز کریں۔ شکر یہ:۔

 قشری اعصابی، گرم تر، غدی اعصابی

محلل عضلاتی مشینی، بلڈ گروپ او نگیٹو۔

سبزیاں :۔ چولائی کا ساگ ، چقندر، شلجم پیلے، دال مونگ ، مونگرے، کدو، ٹینڈے، شلجم، گھیا توری، حلوہ کدو میں ادرک ہلدی،  مرچ سیاہ، زیرہ سفید ، دیسی گھی ڈال کر پکائیں، چولائی و باتھو کا ساگ، پودینہ،  لہسن، اروی گوشت، بند گوبھی گوشت، چقندر:۔

سلاد:۔ سلادچقندر، ادرک، ہلدی، پودینہ، لہسن، بند گوبھی، پھول گوبھی، شلجم، سیاہ مرچ، زیرہ سفید:۔

چٹنی:۔ چٹنی کھجور، مرچ سیاہ، پودینہ +تلسی کے پتوں کی چٹنی، شہتوت سیاہ +انجیر+ آلوبخارا + فلفل سیاہ کی چٹنی:۔

اچار:۔ اچار آم ، اچار ادرک ، اچار سوہانجنہ :۔

مصالحہ جات:۔ ہلدی بازاری، ادرک، کالی مرچ ، دیسی گھی خالص، زیرہ سفید، گڑ:۔

اناج:۔ گندم کا چھلکا، مونگ کا چھلکا، گندم اور مونگ کی چھلکے والی دال کا نمکین دلیا، گندم اور مونگ کے چھلکے، دال مونگ، جو کی کھیر، گندم کی روٹی ، پانی دودھ والا دلیا:۔

پھل:۔ کھجوریں ، میٹھے آم ،  انگور ، شہتوت، خربوزہ میٹھا ، جاپانی پھل شیریں خوب پکا ہوا،  میٹھے دیسی آم، کھجور تازہ،انگور شیریں، خربوزہ، خوبانی شیریں، پپیتہ، ڈوکا، سٹابری،  چیری، چیکو،  باقر خانی، پکا ہوا آم،وائلڈچیری(آلوبالو):۔

 گوشت:۔ مرغابی، مغز بکرا، پرندوں کا گوشت، بکری کا گوشت شوربہ والا،  پائے چھوٹے:۔

مغزیات ، میواجات:۔ ریوڑیاں، کاجو، پپیتہ ، چلغوزے، بادام خشک ، اخروٹ، چلغوزہ، پستہ، انجیرزرد، سوگی، بادام، خوبانی خشک، منقیٰ، کھجور، ڈوکا،  شہتوت سیاہ سفید، کاجو:۔

مقویات:۔ نمکین دلیہ ، بادام کا حلوہ، ادرک کا حلوہ، دیسی گھی میں ادرک اور بادام چھلے ہوئے باریک کر کے ہلدی، زیرہ سفید، مرچ سیاہ، اور نمک ڈال کر مصالحہ بھون لیں پھر کھائیں اوپر سے دودھ والی چائے پی لیں، دیسی گھی شکر  کی چوری، پیٹھے کی مٹھائی، گل سرخ تازہ، سونف والا دودھ ،  روغن اخروٹ، روغن سرشف، روغن زیتون، روغن السی،روغن بادام، گل قند دودھ،:۔

مشروبات، عرقیات:۔  شربت بزوری حار، شربت شہتوت،  اونٹنی کا دودھ،   بکری کا دودھ ، گائے کا دودھ ،شہد ملا پانی ، دودھ سونف والا ، آش جو کھائیں، سونف الائچی خورد والی چائے شہد سے میٹھی کر کے، آب ادرک شہد ملا، آم کا ملک شیک، اسطخودوس + کشنیز + کالی مرچ کی سردائی، عرق عناب، شربت عناب، پودینہ کا عرق، شہد والا پانی، گنے کا رس:۔

مربہ جات :۔ادرک کا مربہ ، آم کا مربہ، مربہ سوہانجنہ، گل قند،

دیگر اشیا:۔ کلچہ ، نان سادہ، دودھ جلیبی، بسکٹ، پانی دودھ والا دلیا، دودھ سویاں،   جلیبی:۔

قہوہ:۔ سونف پودینہ کا قہوہ ،  زیرہ سفید اور الائچی کا قہوہ ، ادرک کا قہوہ  شہد ڈال کر ، سونف پودینہ اور ادرک کا قہوہ، اسطخودوس  +کشنیز +کالی مرچ کی سردائی قہوہ، مکئی کی چھلی کے بالوں کا قہوہ، پودینہ +سفید زیرہ +سبز الائچی کا قہوہ، عناب کا قہوہ، بھوسی گندم کا قہوہ، گلاب کی پتیوں کا قہوہ، ادرک + الائچی سبز کا قہوہ، گل سرخ+ سبز الائچی + زیرہ سفید کا قہوہ:۔

رنگنیلا پیلا پیازی، پنک رنگ کا لباس ، نگ، کمرہ ، موتیا رنگ کے برتن میں پانی ڈال کر پیلے رنگ کی شعاعیں گزار کر پئیں ، بچوں کو انہیں کلرز کے کپڑے اور کھیلو نے :۔

خوشبو: ۔ خوشبو گلاب:۔

نوٹ :۔ کھانا بھوک لگنے پر کھائیں ۔ کولیسٹرول  اور بلڈ پریشر  زیاہ ہو تو چکنائی سے پرہیز، شوگر ، فیٹی لیور   اور ٹرائگلیسرائڈز  کے مریض میٹھے سے پرہیز کریں ، گردوں کے مریض ہر قسم کے گوشت سے پرہیز کریں ۔ جگر کے مریض صرف مائع اور زود ہضم چیزیں استعمال کریں، چکنائی ، گھی، گوشت سے پرہیز کریں۔ شکر یہ:۔

اعصابی قشری، تر گرم، اعصابی غدی

مسکن عضلات کیمیاوی بلڈ گروپ اے پوزیٹو

سبزیاں :۔ مولی ، گاجر، کدو، مونگرے، شلجم سفید، ٹینڈے، حلوہ کدو، گھیا توری ، مغز بکرا،  مغز چھترا میں ہلدی سفید زیرہ کا مصالحہ ڈال کر پکائیں ،  کالی توری، دال ماش کالی:۔

سلاد:۔ سلاد مولی، گاجر، شلجم سفید، ہلدی ، سفید زیرہ:۔

چٹنی:۔   انجیر، ہلدی خالص:۔

اچار:۔  

مصالحہ جات:۔زیرہ سفید ، ہلدی،

 اناج:۔جو کے ستو، دلیا دودھ:۔

پھل:۔ کیلا، امرود، فرما ، پھیکا خربوزہ، گنڈیریاں ، انجیر سفید، بادام ، گل قند، مغز خربوزہ، مغز کھیرا، امرود پکا ہوا، آم + کچی لسی، گرما:۔

 گوشت:۔مغز بکرا یا مغز چھترا میں ہلدی سفید زیرہ ڈال کر پکائیں اور کھائیں

مغزیات ، میواجات:۔  تخم بالنگو، مغز خربوزہ، مغز کھیرا، بادام:۔

 مقویات:۔ مکھن بالائی، حریرہ یا خمیرہ بادام ، حلوہ بادام، سوجی یا کدو کا حلوہ، سویاں یا دلیا دیسی گھی والا،  دودھ جلیبی، برفی ، کھویا دودھ میدہ یا پیٹھے کی مٹھائی ، دودھ، سردائی، کسٹرڈ، فرنی ،  حلوہ گاجر ، سوجی کا حلوہ، سویاں دودھ والی ، گرم دودھ ، دہی، انجیر ، دودھ جلیبی، مغزیات کا حریرہ، حریرہ بادام ، خمیرہ بادام ، حلوہ بادام ، خمیرہ گاؤ زبان سادہ ،  ثابت اسپغول کی کھیر، ساگودانہ کی کھیر، کھچڑی، کھویا، دودھ سویاں پتلی سی نیم گرم، سوجی بادام کی کھیر، بہی دانہ والا دودھ،  کیسٹرآئل، میٹھا دودھ،  حریرہ بادام، گنڈیری، خمیرہ گاؤ زبان،  برفی، زیرہ بسکٹ،  مکھن بادام ، کیک اور بند ، میٹھی سونف:۔

مشروبات، عرقیات:۔  گاجر اکا جوس، گنے کا رس، کیلے کا ملک شیک، شربت بزروری  متعدل ، شربت بادام، شربت بنفشہ، میٹھا دودھ  چینی یا شہد ملا ہوا، شربت بنفشہ، عرق گلاب، ملک شیک  سٹابری، چائے  زیرہ سفید اور سبز الائچی، دہی کی میٹھی لسی،  کانجی،  بھینس  گائے بکری کا دودھ، کالی مرچ + سونف + خشخاش + چارو مغز + دودھ کی سردائی، 5 عدد سبز الائچی + 5 عدد منقٰی + 12 عدد مغز بادام + 12 گرام سونف کی سردائی:۔

مربہ جات :۔مربہ گاجر  ، گل قند:۔

دیگر اشیا:۔

قہوہ:۔ سونف ، چھوٹی الائچی کا قہوہ ۔ قہوہ بنفشہ ، قہوہ ملٹھی، قہوہ گاؤ زبان،  قہوہ ملٹھی + زیرہ سفید، قہوہ زیرہ سفید + سونف، قہوہ ملٹھی + بنفشہ + عناب، قہوہ گل بنفشہ، قہوہ چھلکا خربوزہ، کدو کے چھلکے اور ڈنڈی کا قہوہ:۔

رنگ:۔مغرب کے وقت آسمان کا نظارہ ، ستاروں کو بغور دیکھنا، سفید ، آسمانی ، فروزی ہلکا پنک رنگ کے لباس و کمرہ کا اہتمام کریں۔ دودھیا بلب ہو ، انہی کلرز کے کھیلو نے ، انہی کلرز کے رنگ کی انگوٹھی اور گلے کا لاکٹ:۔

خوشبو:۔ گل سرخ ایرانی:۔

نوٹ :۔ کھانا بھوک لگنے پر کھائیں ۔ کولیسٹرول  اور بلڈ پریشر  زیاہ ہو تو چکنائی سے پرہیز، شوگر ، فیٹی لیور   اور ٹرائگلیسرائڈز  کے مریض میٹھے سے پرہیز کریں ، گردوں کے مریض ہر قسم کے گوشت سے پرہیز کریں ۔ جگر کے مریض صرف مائع اور زود ہضم چیزیں استعمال کریں، چکنائی ، گھی، گوشت سے پرہیز کریں۔ شکر یہ:۔

 اعصابی مخاطی، تر سرد، اعصابی عضلاتی

مسکن عضلات مشینی بلڈ گروپ اے نگیٹو

سبزیاں :۔ کدو ، پیٹھا ، ماش کی دال کالی، مولی ، کھیرا، ککڑی،تر، خرفہ کا ساگ،  گاجر، گھیا توری، شلجم، سرسوں کاساگ: ۔

سلاد:۔ سلاد کھیرا، ککڑی، تر، گاجر، مولی، شلجم:۔

چٹنی:۔ دھنیا سبز، زیرہ سفید،  سلاد کے پتے،  کدو کا رائتا:۔

اچار:۔ اچار لسوڑا، اچار گاجر، اچار مولی،  اچار سپستاں(لسوڑا):۔

مصالحہ جات:۔دھنیا، زیرہ سفید، الائچی کلا:۔

 اناج:۔ ابلے ہوئے چاول ثابت ماش کے ساتھ، ماش کی دال کی کھچڑی، جو کا دلیا، گجریلا، چاول ابلے ہوئے زیرہ سفیدوالے، چاول کی کھیر:۔

پھل:۔ کھیرا، تر، تربوز، سردا، مسمی، شہتوت سفید۔ لوکاٹھ، مالٹا ،مٹھا ، الیچی، مسمی، انار سفید میٹھا ،فالسہ،  آڑو، آلوبخارا:۔

 گوشت:۔ بھیڑ یا بکری کا مغز:۔

مغزیات ، میواجات:۔ مغز کدو ، چاروں مغز کی سردائی، لعوق سپستاں، مغز تربوز:۔

 مقویات:۔ کسٹرڈ، سویاں دودھ، دلیا دودھ کھیر، گجریلا، گاجر کی کھیر ، فالودہ، دہی الائچی والا دودھ ،ثابت اسپغول کی پھکی کھیر،  انڈے کی سفیدی،   مکھن خالص:۔

مشروبات، عرقیات:۔  دودھ کی لسی ، دودھ سوڈا، شربت صندل، شربت بزوری بارد، آب جو، سیب کا جوس، چارو مغز اور بادام کی سردائی ، خشخاش کی سردائی، جو کے ستو، گل سرخ بڑی الائچی، شربت گوند، گوند کتیرا دودھ میں بگھو  کر ، تخم ملنگا، تخم بالنگو، سیون اپ دودھ ، انار سفید شیریں ، تربوز، مسمی کا جوس،چارومغز+ مغز بادام  کی پھیکی سردائی، گاجر کا جوس ، مغزبادام کی پھیکی سردائی، عرق کاسنی،  تخم بالنگو+گوند کتیرا+ دودھ، دہی کی میٹھی لسی، شربت گوند کتیرا، شربت الائچی، شربت املی آلو بخارہ ،واٹر شیک فالسہ،   عرق نیلو فر، تربوز کا واٹر شیک ، دودھ سوڈا، پانی + سیون اپ ملا کر کیلا ملک شیک، لعوق سپستاں، مغز کدو کی سردائی:۔

مربہ جات :۔ مربہ گاجر، مربہ سیب:۔

دیگر اشیا:۔  بسکٹ، نان، ، رس، بسکٹ، ڈبل روتی، دہی کی لسی کے ساتھ۔ بند، دہی کی میٹھی لسی ، کچی لسی، فالودہ، آیسکریم، گنڈیریاں، مکھن کے ساتھ ڈبل روٹی:۔

قہوہ:۔ گل سرخ بڑی الائچی کا قہوہ۔گورکھ پان، قہوہ  بہی دانہ:۔

رنگ:۔دودھیا سفید، ہلکا آسمانی رنگ ، ہلکا سبز رنگ ، سلور کلر کالباس و کمرہ اور نیلے رنگ کا بلب، چاند کی چاندنی کی 12، 14، 16، کو آسمان کو بغور دیکھنا اور گرمی میں کھلی چھت تلے سونا، گرے کلر کے برتن میں پانی سے سفید رنگ کی شعاعیں گزار کر پلانا:۔

نوٹ :۔ کھانا بھوک لگنے پر کھائیں ۔ کولیسٹرول  اور بلڈ پریشر  زیاہ ہو تو چکنائی سے پرہیز، شوگر ، فیٹی لیور   اور ٹرائگلیسرائڈز  کے مریض میٹھے سے پرہیز کریں ، گردوں کے مریض ہر قسم کے گوشت سے پرہیز کریں ۔ جگر کے مریض صرف مائع اور زود ہضم چیزیں استعمال کریں، چکنائی ، گھی، گوشت سے پرہیز کریں۔ شکر یہ:

 مخاطی اعصابی سرد تر

مخدر عضلات کیمیاوی بلڈ گروپ اے بی پازیٹو

سبزیاں :۔ اروی، بھنڈی، ثابت ماش،  اروی، آلو، کیلے کا سالن ، سلاد کے پتے ، پھلی دار سبز یاں ،

سلاد:۔ سلاد کے پتے، دھنیا:۔

چٹنی:۔ انار دانہ، دھنیا وغیرہ:۔

اچار:۔ اچار لسوڑا۔

مصالحہ جات:۔

 اناج:۔ ماش، مکئی، مکئی کی روٹی، ثابت ماش:۔

پھل:۔ ناشپاتی، بگوگوشہ، آڑو، مسمی، مالٹے،  سیب ،سنگھاڑے تازہ، شکر قندی، آگ میں بھنے ہوئے آلو، بو ہڑ کی گولیاں ، ناریل تازہ ، پختہ لسوڑیاں ، لسوڑا:۔

 گوشت:۔ سری پائے ، کپورے نان کے ساتھ :۔

مغزیات ، میواجات:۔

 مقویات:۔ ساگو دانہ کی کھیر، گوند کتیرا دودھ میں ملا کر، ڈبل روٹی مکھن کے ساتھ ، کھیر ، فرنی، دودھ میں اسبغول چھلکا ملا کر، پنیر ،ٹھنڈا دودھ، انڈے کی سفیدی میٹھی،

مشروبات، عرقیات:۔  شربت بالنگو، گوند کتیرا والا ہی یا دودھ یا ادھ رڑکا، سردائی، چارو مغز، خشخاش، شربت انار، ساگودانہ، دہی کی لسی پیڑوں والی ، شربت سپستاں،

مربہ جات :۔ سیب:۔

دیگر اشیا:۔ آئس کریم، فالودہ، آلو چاول کا پلاؤ، دودھ میں چھلکا اسپغول ملا کر، ڈبل روٹی مکھن کے ساتھ کھا لیں ساگو دانہ ، گوند کتیرا دودھ میں ملا کر ، انڈے کی سفیدی میٹھی،:۔

قہوہ:۔ الائچی کلاں (بڑی)+ گلاب کا قہوہ

رنگ:۔ سلور کلر کا  لباس، کمرے میں بلیک کلر کے وال پیپر اور سفید دودھیا اور سبز بلب، کالے رنگ کے برتن میں پانی میں سے سبز رنگ کی شعاعیں گزار کر پلائیں اور تیز سبز اور کالے کا نگ انگوٹھی یا گلے میں ڈالیں:۔

نوٹ :۔ کھانا بھوک لگنے پر کھائیں ۔ کولیسٹرول  اور بلڈ پریشر  زیاہ ہو تو چکنائی سے پرہیز، شوگر ، فیٹی لیور   اور ٹرائگلیسرائڈز  کے مریض میٹھے سے پرہیز کریں ، گردوں کے مریض ہر قسم کے گوشت سے پرہیز کریں ۔ جگر کے مریض صرف مائع اور زود ہضم چیزیں استعمال کریں، چکنائی ، گھی، گوشت سے پرہیز کریں۔ شکر یہ:

 مخاطی عضلاتی، سرد خشک، اعصابی عضلاتی

مخدر عضلات مشینی بلڈ گروپ اے بی نگیٹو

سبزیاں :۔ بند گوبھی، (کرم کلہ) آلو گوبھی، دہی میں کدو کا رائتہ، مٹر، چنے کی دال، لوبیا، چنے، کڑی پکوڑے:۔

سلاد:۔ سلاد بند گوبھی، پھول گوبھی:۔

چٹنی:۔ آلو بخارا، املی:۔

اچار:۔ لیموں:۔

مصالحہ جات:۔

 اناج:۔ مکئی یا مئی کی روٹی، موٹھ کی دال  والی کھچڑی، سادہ یا دہی ڈال کر ، مٹر پلاؤ، پیاز کے تڑکے والے چاول پلاؤ، مکئی بھنی ہوئی ، مکئی کے سٹے، چنے پلاؤ، بریانی:۔

پھل:۔ بہی ،سیب، اور مالٹا جو قدرے ترش ہو، بھٹہ مکئی، بیر تازہ،  شہتوت سیاہ، آڑو ترش، رس بھری،  بیر سبز، سنگترے:۔

 گوشت:۔ ۔

مغزیات ، میواجات:۔ سنگھاڑے خشک:۔

 مقویات:۔ دہی بھلے، آلو چھولے والی چارٹ، یا فروٹ چارٹ،  ترپھلہ، بیر سبز ، بھنے ہوئے آلو:۔

مشروبات، عرقیات:۔  سکنجبین، رس مالٹا ترش، سیب کا جوس، شربت انجبار، شربت فولاد لیموں ڈال کر:۔

مربہ جات :۔مربہ سیب، مربہ بہی، خمیرہ مروارید دہی، خمیرہ مروارید، دواءلمسک، بارد جواہر دار :۔

دیگر اشیا:۔ دہی،پیاز کے تڑکے والے چاولوں کا پلاؤ، سادہ یا دہی ڈال کر یا مٹر پلاؤ کھا لیں، دہی بھلے، آلو چھولے یا فروٹ چاٹ کھا لیں،

قہوہ:۔ بو ہڑ کی داڑھی، یا انجبار کا قہوہ، سبز پتی کا قہوہ،  چائے:۔

رنگ:۔کاپر کلر یاڈارک برون کلرک الباس ، گولڈن رنگ کی ایشاء کو بار بار دیکھنا، کمرے میں گولڈن رنگ کا بلب اور سرخی مائل وال پیپر ، آم کے ملک شیک میں کاپر کلر کی شعاعیں یا کالے برتن کے پانی میں سرخ شعاعیں گزار کر پلائیں، اسی کلر کا لباس پہنیں، انہیں کلر کا استعمال کریں:۔

نوٹ :۔ کھانا بھوک لگنے پر کھائیں ۔ کولیسٹرول  اور بلڈ پریشر  زیاہ ہو تو چکنائی سے پرہیز، شوگر ، فیٹی لیور   اور ٹرائگلیسرائڈز  کے مریض میٹھے سے پرہیز کریں ، گردوں کے مریض ہر قسم کے گوشت سے پرہیز کریں ۔ جگر کے مریض صرف مائع اور زود ہضم چیزیں استعمال کریں، چکنائی ، گھی، گوشت سے پرہیز کریں۔ شکر یہ:۔